روایت العلم علمان علم الأبدان،وعلم الأديان کی اسنادی حیثیت
سوال :-
جواب :-
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب حامداو مصلیا"
علامہ صنعانیؒ نے اس کو موضوعات صنعانی رقم(31) پر اس کو موضوع کہا ہے نیزملا علی قاریؒ نے الاسرار المرفوعہ میں رقم(301)پرعلامہ پٹنیؒ نے تذکرۃ الموضوعات میں 1/18پراور علامہ شوکانیؒ نے الفوائد المجموعہ میں رقم(31)پراس کوموضوع کہنے میں علامہ صنعانیؒ کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
امام اصبہانیؒ نے حليۃ الأولياءمیں9/142پر اس کو اپنی سند کے ساتھ ذکر کی ہے جس میں ربیع بن سلیمانؒ فرماتےہے کہ یہ امام شافعیؒ کاقول ہے اسی طرح امام يوسف بن عبد الله القرطبیؒ نےالانتقاء في فضائل الثلاثہ الأئمۃ الفقهاء میں1/84پر اسے امام شافعیؒ کاقول کہا ہے۔
سابقہ تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ یہ امام شافعیؒ کا قول ہے جیسا کہ گزر گیا لہذااس کو آپﷺکی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہےواللہ اعلم بالصواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر علی مردان
دار الافتاء جامعہ امام محمد بن الحسن الشیبانی
2023/2/2الموافق10/رجب/ 1443ھ
الجواب صحیح
حضرت مولانا)نور الحق (صاحب دامت برکاتہم العالیہ)
ریئس دار الافتاء ومدیر جامعہ امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ)
2023/2/2الموافق10/رجب /1443ھ