تاریخ پیدائش کے اندراج کے وقت بچوں کی عمر کم لکھوانے کا شرعی حکم
سوال :-
جواب :-
الجواب باسم ملھم الصواب
حامداً ومصلیاً!
صورت مسئولہ کے مطابق زید کا اپنے بیٹے کی عمر ایک سال کم ظاہر کرنا جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے جوکہ بالکل ناجائز اور حرام ہے۔اوریہ ایک عرصہ طویل تک جاری رہنے والا گناہ ہے کیونکہ آئندہ زندگی میں جب بھی تاریخ پیدائش لکھنے کی نوبت آئے گی تو ہر بار جھوٹ اور دھوکہ دہی لاز م آئے گی اس وجہ سے زید کے لیے اس کام سے اجتناب ضروری ہے۔ احادیث مبارکہ میں جھوٹ اور دھوکہ دہی پر شدید قسم کی وعید آئی ہے اس وجہ سے اس سے احتراز لازم ہے۔
حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔
صحیح بخاری،دارطوق النجاۃ،الطبعۃ الاولیٰ،1422ھ،رقم الحدیث:33۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ القِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ۔
صحیح بخاری،دارطوق النجاۃ،الطبعۃ الاولیٰ،1422ھ،رقم الحدیث:6966۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:تَقَبَّلُوا لِي سِتًّا أَتَقَبَّلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ، قَالُوا: مَا هِيَ؟ قَالَ: إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَكْذِبْ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا يُخْلِفْ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ فَلَا يَخُنْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ۔
مسند ابویعلیٰ،دارالمامون للتراث،دمشق،الطبعۃ الاولیٰ،1404ھ،رقم الحدیث:4257۔
واللہ اعلم بالصواب
مفتی ابوالاحراراُتلوی
دارالافتاء
جامعہ امام محمد بن الحسن الشیبانی
محلہ سلیمان خیل (جبر)ٹوپی