بیوی کے طلاق کو کراچی آنے کے ساتھ معلق کرنا
سوال :-
جواب :-
الجواب باسم ملھم الصواب
حامداً ومصلیاً!
صورت مسئولہ کے مطابق بتقدیر صحت سوال آپ کی بہن حامدہ بی بی پر ابھی تک کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اب اپنے شوہر شیرین زادہ کے ساتھ کراچی چلی جائے ورنہ اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ کراچی نہیں گئی تو پھر اس پر طلاق واقع ہو جائے گی۔
واذا اضافہ الیٰ شرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامراتہ:ان دخلت الدار فانت طالق وھٰذا بالاتفاق۔۔۔۔الخ
الھدایۃ،باب الایمان فی الطلاق،مکتبہ رحمانیہ،اردوبازار لاہور،ج:2،ص:398
واذا اضافہ الیٰ الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثل ان یقول لامراتہ:ان دخلت الدارفانت طالق۔۔۔۔۔الخ
الفتاویٰ الھندیۃ،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،الطبعۃ الاولیٰ،1421ھ،ج:1،ص:457
ولوقال لامراتہ کلمااکلت تمرۃ وجوزۃ فانت طالق فاکل ثلاث تمرات وجوزۃ واحدۃ لایقع الاواحدۃ۔۔۔۔۔الخ
الفتاویٰ الھندیۃ،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،الطبعۃ الاولیٰ،1421ھ،ج:1،ص:455
الطلاق المعلق ھومارتب وقوعہ علیٰ حصول امر فی المستقبل باداۃ من ادوات الشرط ای التعلیق مثل ان ومتیٰ ولو ونحوھا کان یقول الرجل لزوجتہ ان دخلت دار فلان فانت طالق اواذا سافرت الیٰ بلدک فانت طالق اوان خرجت من المنزل بغیر اذنی فانت طالق اومتیٰ کلمت فلاناً فانت طالق ۔۔۔۔۔فقال الائمۃ المذاھب الاربعۃ یقع الطلاق المعلق متیٰ وجد المعلق علیہ سواء اکان فعلاً لاحدالزوجین ام کان امرا سماویاً وسواء اکان التعلیق قسمیا وھو الحث علیٰ فعل شئی او ترکہ اوتاکیدالخبر ام شرطیا یقصد بہ حصول الجزاء عند حصول الشرط ۔ ۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ،دارالفکر للطباعۃ والتوزیع والنشر،دمشق،الطبعۃ الثانیۃ،1405ھ،ج:7،ص:444،447
ابھی طلاق نہیں ہوئی،کیونکہ زید نے طلاق کو شرط پر معلق کیا ہے ،تنجیز طلاق نہیں ہوئی،لہٰذا تحقق شرط سے پہلے طلاق کا حکم نہیں ہوگا۔اورجس شرط پر تعلیق کی ہے اس کے لیے قید نہیں لگائی کہ اگر فلاں وقت تک نہیں آئے گی تو تجھ کو ایک طلاق،دو طلاق،تین طلاق،بلکہ مطلق رکھا ہے۔اگر بیوی جھگڑے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی آجاوے توحسب سابق نکاح میں رہے گی، جدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی۔
فتاویٰ محمودیہ،دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی،ج:13،ص:75۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی ابوالاحرار اُتلوی
دارالافتاء
جامعہ امام محمد بن الحسن الشیبانی
سلیمان خیل (جبر) ٹوپی صوابی