ربیبہ کے نفقہ کا شرعی حکم
سوال :-
جواب :-
الجواب باسم ملھم الصواب
حامداً ومصلیاً!
صورت مسئولہ کے مطابق جب آپ کے بھائی کاانتقال ہوا توان کے تینوں اولاد (یعنی ایک بیٹا اور دو بیٹیاں )نابالغ تھیں۔والد کے انتقال کے بعد بچوں کی والدہ،تین چچااور دوپھوپھیاں زندہ تھیں۔ایسی صورت حال میں نفقات کے شرعی اصول کے مطابق تو بچوں کا نقفہ والدہ اور چچادونوں پرلازم ہوتا ہے لیکن بقول آپ کے بچوں کے پاس پلاٹ کی صورت میں اپنی جائیداد ہے اور آپ کی مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے آپ اپنے ذاتی مال سے بچوں کاخرچہ برداشت نہیں کرسکتے تھے،اور نہ ہی ان کی والدہ ان کا خرچہ برداشت کرسکتی تھی۔
جب نابالغ کے پاس ذاتی مال موجود ہواور اس کا ولی غریب ہونے کی وجہ سے اس کانفقہ برداشت نہیں کرسکتا تو اس صورت میں نابالغ کاخرچہ اس کے اپنے ذاتی مال سے ہی لیا جائے گا۔آپ کے بقول آپ نے ان پر جو خرچہ کیا ہے وہ آپ نےادھار کی نیت سے کیا تھااورآپ ان بچوں کے حقیقی چچا بھی ہو اور ان بچوں کی والدہ بھی آپ کے نکاح میں ہے تو اس صورت میں اگر واقعی آپ نے اپنی غربت کی وجہ سے ان پر ادھار کی نیت سے خرچہ کیا ہو اوربچوں کی والدہ کی رضامندی سے ایسا کیا ہواور اس پورے معاملہ میں آپ کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لے رہے ہوں تو آپ نے ان پر جتنا خرچہ کیا ہے وہ رقم آپ ان سے طلب کر سکتے ہیں ،پھر ان کی مرضی ہے کہ وہ آپ کووہ رقم نقد دیتے ہیں یا اس رقم کے بقدر آپ کواپنے ساتھ پلاٹ میں شریک کرتے ہیں۔
إنما تجب النفقة على الأب إذا لم يكن للصغير مال أما إذا كان فالأصل أن نفقة الإنسان في مال نفسه صغيرا كان أو كبيرا.
الہدایہ،داراحیاء التراث العربی،بیروت،ج:02،ص:292۔
(والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.
الدرالمختار،دارالفکر،بیروت،الطبعۃ الثانیہ،1412،ج:03،ص:594۔
فأما نفقة الولد لا تجب إذا تمكن من الانتفاع، وإنما تجب لأجل الحاجة فلا تجب بدون الحاجة، كنفقة المحارم.فإن كان للصغير عقاراً....... ذلك للنفقة كان للأب أن يبيع ذلك كله وينفق عليه؛ لأنه غني بهذه الأشياء، ونفقة الصبي تكون في ماله إذا كان غنياً.وإن كان مال الصغير غائباً توجب على الأم أن تنفق من مال الولد إذا حضر ماله، ولكن إن أشهد على ذلك فله أن يرجع في الحكم، وإن أنفق بغير إشهاد على نية الرجوع ليس له أن يرجع في الحكم؛ لأن الظاهر أن الأب قصد فيما ينفق على ولده التبرع والقاضي لا يطلع إلا على الظاهر، أما الله تعالى فمطلع على الضمائروالظواهر، فكان له أن يرجع إذا كان قصده عند الإنفاق الرجوع۔
المحیط البرہانی،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،الطبعۃ الاولیٰ،1424ھ،ج:03،ص:566۔
نابالغ اولاد کا کھانا،کپڑا،رہن سہن والد کے ذمے ہوتا ہے جبکہ خود اس نابالغ کے پاس مال نہ ہوجیسا کہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔
فتاویٰ محمودیہ،جامعہ فاروقیہ کراچی،ج:13،ص:467۔
اگر بچے خود صاحب استطاعت ہو ں اور مال ان کے پاس موجود ہوتو باپ ان ہی کا مال ان پرخرچ کرسکتا ہے۔اوراگرمال اس کی دسترس میں نہ ہو اور قاضی کی اجازت سے باپ خرچ کرے یابچوں کی جائیداد سے وصول کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو بعد میں بچے کے مال پردسترس حاصل ہونے کے بعد اپنا پیسہ وصول کرسکتا ہے،تاہم قضاء اپنے پیسے واپس لینے کے لیے اپنی نیت پر گواہ بنانا ضروری ہے۔
فتاویٰ عثمانیہ،العصر اکیڈمی،پشاور،اشاعت ششم،2020،ج:06،ص:398۔
واللہ اعلم بالصواب
مفتی ابوالاحراراُتلوی
دارالافتاء
جامعہ امام محمد بن الحسن الشیبانی
محلہ سلیمان خیل(جبر)ٹوپی،صوابی